ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ممبران پارلیمنٹ کی سیلری میں 100فیصد اضافہ کی تیاری، یکم اپریل سے ہوگانافذ

ممبران پارلیمنٹ کی سیلری میں 100فیصد اضافہ کی تیاری، یکم اپریل سے ہوگانافذ

Tue, 19 Jul 2016 11:11:00    S.O. News Service

کئی ممبران پارلیمنٹ اضافے کے خلاف،عوام کی خدمت کیلئے موجودہ تنخواہ کو کافی بتایا

نئی دہلی، 18جولائی؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے تقریباََ 800ممبران پارلیمنٹ کی بنیادی سیلری 50000روپے سے دوگناکرکے ایک لاکھ روپے فی ماہ کی جا سکتی ہے۔ارکان پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے ذریعے نئی تنخواہ کی سفارش کے بعد وزراء کے ایک گروپ نے اس کی منظوری دے کرکابینہ کو سونپ دیا ہے اور اب اس پر حتمی فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی لیں گے،اگر پی ایم مودی نئی سفارشات پراپنی رضامندی ظاہر کر دیتے ہیں تو اسے پارلیمنٹ کے اسی سیشن میں منظوری مل جانے کا امکان ہے۔نیاگریڈیکم اپریل سے لاگو ہوگا۔پارلیمنٹ کامانسون سیشن پیرسے شروع ہوکر5اگست تک چلے گا۔نئی سفارشات کے بعد ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ دوگنی ہو کر ایک لاکھ روپے فی ماہ ہو جائے گی۔بڑھی ہوئی تنخواہ کے مطابق ہی مراعات میں بھی اضافہ ہوگا۔ممبران پارلیمنٹ کے اپنے پارلیمانی علاقے کے لئے سفر الاؤنس اور دیگر رقوم بھی بڑھ کر 90000روپے ماہ ہو جائیں گی،ساتھ ہی آفس عملے کے لئے انہیں ملنے والے پیسے بھی دوگنے ہو جائیں گے۔ممبران پارلیمنٹ کو اپنی سرکاری رہائش کے فرنیچر کے لئے ملنے والا سالانہ الاؤنس بھی دوگنا ہو کر 150000روپے ہو جائے گا۔اس کے علاوہ ان پارلیمانی علاقے کی رہائش گاہ کے لئے 1700روپے کا مفت براڈبینڈ بھی مہیا کرایا جائے گا۔سابق ارکان پارلیمنٹ کے لئے ماہانہ پنشن 20000روپے سے بڑھ کر 35000روپے ہو جائے گی۔ممبران پارلیمنٹ کو تنخواہ اور الاؤنس ملاکر مہینے میں 190000کی جگہ 280000روپے ملیں گے (تنخواہ، پارلیمانی علاقہ الاؤنس اور آفس کے عملے کا الاؤنس شامل)۔بھارتی ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ نظرثانی 6 سال پہلے ہوئی تھی،تاہم ناقدین کی اس دلیل سے کچھ لیڈران متفق ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ کو خود کی سیلری بڑھانے کا حق نہیں ہونا چاہئے۔ترنمول کانگریس کے ایم پی پرسون بنرجی نے کہاکہ میں اس اضافہ کے خلاف ہوں،ہم یہاں لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے ہیں اور ہمیں جو کچھ مل رہا ہے، وہ کافی ہے۔وہیں سی پی ایم لیڈر ایم راجیش نے کہاکہ ہمارا صاف خیال ہے کہ تنخواہ اضافہ ہماری طرف سے نہیں طے کیا جانی چاہئے، بلکہ اس کے لئے کوئی آزاد باڈی ہونی چاہئے۔چند ہفتے پہلے ہی چھٹے تنخواہ کمیشن کی سفارشات کے پیش نظر مرکزی ملازمین کی سیلری میں اضافہ کے اعلان کے بعد زیادہ تر ممبارن اپنی تنخواہ بڑھائے جانے کے حق میں ہیں۔حکمران بی جے پی کے ایم پی جگدمبیکا پال کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ بڑھا دی گئی ہے، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ بھی بڑھنی چاہئے۔وہیں تیلگو دیشم پارٹی کے کے آر نائیڈو کی دلیل ہے کہ مناسب تنخواہ سے بدعنوانی ختم ہو گی۔


Share: